کیا آپ کا بچہ بھی پورن دیکھتا ہے – دوسرا حصہ

July 14, 2020
872
Views


اگر آپکو ایک بار فحش مواد دیکھنے کا شوق پیدا ہو جائے تو یہ رکتا نہیں بلکہ بڑھتا ہے اور آپکو اسکی لت لگ جاتی ہے ۔۔ پورن انڈسٹری نے اس فحش مواد کو مختلف کیٹگریز میں تقسیم کر رکھا ہے
سب فحش سائیٹس پر 18+ درج ہوتا ہے ۔۔ لیکن اِن سائیٹس کا وزٹ کرنے والے کیا واقعی ہی 18+ ہوتے ہیں ؟
انٹرنیٹ سیفٹی کے مطابق آجکل تقریبا 10 سال کی عمر میں بچوں کے پاس کسی نہ کسی صورت میں موبائل فون موجود ہوتے ہیں ۔ انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن کی تحقیق کے مطابق 11 سے 13 برس کے بچے بھی انٹرنیٹ کی فحاشی سے متاثر ہوکر خود بھی اسکا شکار ہو جاتے ہیں اور اسکا حصہ بن جاتے ہیں ، 13 سال کی عمر تک کے بچوں کو کہیں نا کہیں ایسا مواد موصول ہو جاتا ہے یا پھر وہ کسی اور کو بھیجتے ہیں۔
سائیبر سیف آئرلینڈ کی ریسرچ کے مطابق 8 سے 13 کی عمر کے 43 فیصد بچے انٹرنیٹ پر غیروں سے بات کرتے ہیں، 8 سال کے 36 فیصد اور 10 سال کے 43 فیصد لڑکے 18+ گیمز کھیلتے ہیں اور ایسا جنسی مواد ان کے سامنے ہوتا ہے جو اس عمر کیلئے مناسب نہیں ہے
کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ گیمز ، انٹرنیٹ اشتہارات اور ویڈیوز کی مد میں کس قسم کے مواد تک آپ کے بچوں کی رسائی ہے ؟
کیا موبائل کیساتھ انٹرنیٹ کی دستیابی سے آپکا بچہ اس سب محفوظ ہے ؟
فحش مواد دیکھنے سے بچوں پر کونسے مضر صحت اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی سائیکالوجسٹ سدرہ اختر کہتی ہیں جب بچے فحش مواد دیکھتے ہیں تو ان میں Pre-Maturity آ جاتی ہے، وقت سے پہلے بلوغت کہہ لیجئے ، جو کہ بعد میں Sexual Frustration کا باعث بنتا ہے، فحش مواد دیکھنے والے بچوں کا جب سی ٹی سکین یا ایم آر آئی کیا گیا تو دیکھا گیا کہ انکا برین سائز Shrink ہو جاتا ہے، انکی ساخت اور فزیالوجی دونوں میں تبدیلی واقع ہوتی ہے ، بہت سے بچے فحش مواد دیکھ کر Masturbation کی طرف چلے جاتے ہیں اور بعد میں Gult فیلنگز انھیں نفسیاتی طور پر متاثر کرتی ہیں ،جسم میں کچھ ایسے ہارمونز ہوتے ہیں جو عمر کیساتھ ہی بہتر رہتے ہیں اگر عمر سے پہلے وہ بننے لگ جائیں تو موڈ پر کافی اثر انداز ہوتے ہیں
سدرہ یہ بھی کہتی ہیں کہ یہ بات توجہ طلب ہے کہ جو کارٹون بچوں کو دکھائے جا رہے ہیں ان میں کس قسم کی ڈریسنگ کی جاتی ہے ۔ جب ماں باپ بچوں کو Sleeveless لباس پہنائیں گے تو وہ بچی بڑے ہوکر کیسے دوپٹہ لے گی ، ہمارے معاشرے میں نہ تو اخلاقی اور نہ ہی Psychological ڈویلپمنٹ پر کام کرتے ہیں
سمیرا راجپوت جوکہ بلاگر بھی ہیں کہتی ہیں کہ ہمیں بچوں کو سیکس ایجوکیشن دینے کی ضرورت نہیں صرف Right & Wrong Touch کی پہچان کرانا ضروری ہے
پاکستان میں واٹس ایپ اور فیس بک جو فحش مواد کے گروپس موجود ہیں ان میں 16 سے 24 سال کی عمر کے زیادہ افراد کی دلچسپی عمر رسیدہ خواتین میں نظر آتی ہے ۔۔ وجہ ہے انٹرنیٹ پر فحش مواد اور پھر ویسے ہی جسم کی خواہش ، فحش مواد بنانے والی سائیٹس خاص کو جسم کے خصوصی حصوں کی خوبصورت شیپ بنا کر دیکھنے والوں کے سامنے پیش کرتی ہیں۔ ان دنوں نوجوانوں کی زیادہ دلچسپی غیر فطری طریقہ سے سیکس کرنے میں پائی جاتی ہے اسکی دو وجوہات ہیں ایک تو ہمارے معاشرہ میں شادی سے پہلے اگر لڑکی Virgin نہ ہو تو اسکو شادی کے ساتھ بہت سے مسائل دیکھنے پڑتے ہیں اور بعض اوقات بات طلاق تک پہنچ جاتی ہے لیکن اپنے بوائے فرینڈ اور اپنی جنسی خواہش کی تکمیل کیلئے غیر فطری طریقہ استعمال کرتے ہیں ،Anal اورOral سیکس کا تناسب اسی وجہ سے پاکستان میں بڑھتا جا رہا ہے ۔ Anal سیکس کی دوسری وجہ فحش مواد دیکھانے والی ویب گاہیں ہیں جن کی وجہ سے اس غیر فطری عمل کی طرف رجحان بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔
جب آپ کے بچے اس قسم کے سین اور ویڈیوز دیکھیں تو انکی خواہش بھی ویسی ہی پیدا ہوگی اور معاشرہ بے راہ روی کا شکار ہوگا ، اپنے بچوں کے انٹرنیٹ پر گزرے وقت پر نظر رکھئے کیونکہ ذمہ داری پوری کرنا پچھتانے سے بہتر ہے
یورپ میں بچوں کو جنسی تعلیم بہت چھوٹی کلاسز سے دینی شروع کر دی جاتی ہے جس کی وجہ یہ بنتی ہے کہ بچے اپنی عمر سے کئی گنا زیادہ بڑے ہو جاتے ہیں اور وہ ایسا سب کچھ کرنے کا سوچتے ہیں یا کرتے ہیں جو انکی عمر کیلئے بہتر نہیں ہوتا ۔ لیکن ایک خاص عمر کے بعد بچوں کو بتانا بھی ضروری ہے اگر نہیں بتایا گیا تو انکو یہ تعلیم فحش ویب گاہیں دیں گی جن کے اثرات انتہائی خطرناک ہوسکتے ہیں ،
ایک اور مسئلہ ہے کہ سیکس ایجوکیشن دے گا کون ؟ کیا کالج کے اساتذہ دیں گے یا یونیورسٹی کے ابتدائی دور میں ایسا کوئی مضمون پڑھایا جائے گا ؟ یہاں پر مسئلہ دوسرا پیدا ہو جاتا ہے اور وہ ہے استاد و طالبعلم کا جسمانی تعلق ، گو کہ ایسی تعلیم دینے والے اساتذہ کی ذمہ داری بھاری ہوتی ہے لیکن کہیں کہیں طلباء بھی اساتذہ میں اتنی دلچسپی لیتے ہیں کہ بات جنسی عمل تک پہنچ جاتی ہے دیگر جگہوں پر آپ نے سن رکھا ہے کہ اساتذہ کی جانب سے طلباء خاص کر لڑکیوں کو جنسی ہراسگی کیلئے بلایا گیا ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حوالے سے حکومتی سطح پر ایک پالیسی ترتیب دی جائے تاکہ ان مسائل کا حل تلاش کیا جائے اور اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے
پاکستان میں نجانے کتنے فیصد ایسے خاندان ہیں جن کے بچوں کو تو انٹریٹ کی غلط استعمال کی زیادہ اور صحیح استعمال کی بہت کم سوجھ بوجھ ہے جبکہ ان کے والدین کو تو اس حساس معاملے کی سرے سے سمجھ ہی نہیں ۔

وقارحیدر

Comments are closed.